نیب والو ! یہ بھی ناجائز اثاثوں کا معاملہ ہے ۔۔۔

20

تحریر : ابن ِ ریاض
ہم سے اکثر لوگ فرمائش کرتے ہیں کہ کوئی ناول لکھیں یا کم از کم کوئی غزل ہی ہو جائے۔آپ کے تمام احباب مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں مگر آپ ہیں کہ انشائیہ کے علاوہ اور کچھ نہیں لکھتے۔ہم ان سے معذرت کر لیتے ہیں۔ ہم کیوں نہیں لکھتے؟ بس نہیں لکھتے۔ ہمارا میلان ہی نہیں ہے مگر اب معلوم ہوا کہ ہمارے پاس کوئی جائیداد ہی نہیں ہے۔

گزشتہ روز ہمیں فیس بک پر ایک نوجوان شاعرہ ”ماہین حسین”کی غزل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ وہ غزل اچھی تھی۔ معلوم ہوا کہ انھوں نے غزل میر کی زمین پر لکھی تھی۔ ہمیں کچھ برس قبل کا واقعہ یاد آیا جب ہم اردو فینز نامی فورم کے رکن تھے۔ اس فورم میں ہندوستان کی دو لڑکیاں ‘حیا ‘اور’ غزل ‘ نامی تھیں۔اتفاق سے دونوں شاعرات بھی تھیں۔ایک روز ہوا کچھ یوں کہ حیا علی نے آزاد نظموں سے ناتا توڑا اور ایک غزل لکھ ڈالی۔ کسک، چمک وغیرہ کے قافیہ پر۔ ہم جیسوں نے تو تعریف کی کہ ‘کر بھی کیا سکتا تھا بندہ کھانس لینے کے سوا’۔ مگر جب یہ غزل شاعرات کے ہاتھ چڑھی تو انہوں نے اس کا تیہ پانچہ کر دیا، غزل کو تو غزل کاٹ گئی بالکل ایسے ہی جیسے لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اور اس نے بھی اس پر ہاتھ صاف کیے اور جب وہ عینی خاتون کی نظر سے گزری تو انھوں نے بھی بھاگتی غزل کی لنگوٹی نہ سہی پلو ہی پکڑ لیا۔ مگر عینی نے ایک گوہر نایاب ہمیں بھی دے دیا کہ غزل انھوں نے حیا کی زمین پر لکھی ہے۔

اس بات سے ہم بھی آگاہ ہیں کہ زمین میں قدرتی خزانوں کی کمی نہیں تاہم ہمارے لئے نئی بات اس میں یہ تھی کہ شاعرزمیندار بھی ہوتے ہیں اور ان کی زمینوں سے شعروں کے خزانے نکلتے ہیں۔ پرانے شاعروں کی زمینیں استعمال کرنے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ وہ چونکہ دنیا میں موجود ہی نہیں تو ان کی زمین پر کوئی بھی قبضہ کر سکتا ہے۔اور اگر ہوتے بھی تو انھوں نے زمین کی قیمت اپنے وقت کے حساب سے طے کرنی تھی اور وہ چند روپے کنال بنتی۔ موجودہ شاعر بہت سیانے ہیں سوان کی زمین مھفوظ رہتی ہے کیونکہ وہ قیمت ہی ڈیفنس اور بحریہ والی لگاتے ہیں۔ چھوٹے موٹے شاعر تو قیمت سن کر ہی شاعری سے توبہ کر لیتے ہیں۔

ہم پر یہ عقدہ بھی وا ہوا کہ ہماری شاعری نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی زمین نہیں۔ زمین تو شائد غزل کے پاس بھی نہیں تھی مگر وہ چونکہ حیا کے قریب رہتی تھی سو اس کی زمین پر جا کر نکال لائی ہو گی مگر ماہین و عینی کا اس زمین پر غزل کہنا ہمارے لئے بھی باعث تعجب ہے کہ ان دونوں خواتین کو ویزہ کیسے مل گیا اور پھر انھوں نے دوسرے شعراء کی زمین کیسے ڈھونڈی ہو گی؟ ممکن ہے کہ کسی جن یا بھوت کی مدد حاصل رہی ہو ورنہ وہاں جانے کو مشتاق تو ہم بھی ہیں۔
ایک بات اور جو ہمیں سمجھ آئی وہ یہ کہ تمام خواتین کافی جفاکش ہیں کہ ایک غزل کی خاطر اتنی دور چلی آئیں۔ گمان یہ ہے کہ زمین رہائشی یا قابل کاشت ہو گی۔اگر کمرشل ہوتی تو ممکن ہے کہ پانچ دس غزلیں ہو جاتیںـ۔ اب حیا کی زمین پر دو سے زیادہ اور کتنی غزلیں ہوتیں؟ ہم سے کہا ہوتا تو ہم انھیں عرب کے صحرا میں لے جاتے۔ نہ زمیں ختم ہوتی اور نہ غزلیں۔ دیوان تو ہمارے بریدہ میں ہی تکمیل پا جاتا۔ شاعری کا تو یہ قصہ ّ ہوا۔

ناول نہ لکھنے کی وجہ بھی وہی غربت ہی سمجھیے۔ہمارے دوستوں اور شناسائوں میں ناول نگاروں کی بھی کمی نہیں۔ کچھ تو شاعری و ناول نگاری دونوںہی میدانوں کے کھلاڑی ہیںـ ناول نگاروں کو بھی ہم نے ہمیشہ پلاٹوں کی ہی باتیں کرتے دیکھا ہے۔ ناول بھی تب ہی چھپتا ہے جب پہلے پلاٹ موجود ہو۔بعض ناول نگار بالخصوص خواتین ناول نگار تو اتنی تونگر ہیں کہ ہر ماہ کسی نہ کسی پلاٹ پر ‘سٹوری’ بنا دیتی ہیں۔اس کے باوجود ان کے پلاٹوں کی تعداد کم نہیں ہوتی۔ہمیں زیادہ کی چاہ نہیں بس ایک دو پلاٹ مل جائیں تو ہم تو سمجھیں گے کہ ہماری پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔

شاعروں کے پاس زمینیں ہیں اور ناول نگاروں نے پلاٹوں پر قبضہ کیا ہوا ہے تو کالم نگاروں کا کیا قصور ہے؟وہ تین میں نہ تیرہ میں۔کیا ہی اچھا ہو کہ پلازے کالم نگاروں کے نا م ہو جائیں۔اس طرح کالم نگاروں کی بھی اشک شوئی ہو جائے گی اور انھیں دوسری اصناف کے ماہرین سے رشک و حسد نہیں ہوگا۔

ناول نگار و شاعر ہمارے دوست ہیں اور ہمیں بہت عزیز بھی ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ دوستی ہمیں کلمہء حق کہنے سے روک سکے۔ہماری رائے میں شاعروں اور ناول نگاروں کی اکثریت کے اثاثے(زمینیں و پلاٹ) ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔علاوہ ازیں، سوشل میڈیا کے اس دور میں شاعر و ادیب ناجائز اور زبردستی قبضہ بھی کر لیتے ہیں۔ہم حیران ہیں کہ نیب والوں کی اب تک اس طرف نظرکیوں نہیں پڑی۔ اس معاملے میں تو سیاسی و فوجی مداخلت کا امکان بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔سو ہماری نیب سے گزارش ہے کہ وہ خود کو سیاست دانوں تک محدود نہ کرے بلکہ ادیبوں اور شاعروں کابھی محاسبہ کریاور ان سے ناجائز زمینیں و پلا ٹ واگزار کروائے۔جن کے اثاثے و ذرائع آمدن میں مطابقت نہ ہو، ان کے سخت سزائیں بھی ہونی چاہییں۔ مثال کے طور کے شاعر اگر سزاوار ہو تو اسے دوسرے شعراء کا دیوا ن سنایا جائے مگر اسے اپنا کلام سنانے کی ممانعت ہو۔ایسے ہی ادیبوں کو اپنے ہم عصر ادیب کی تعریف میں ایک گھنٹہ بولنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔اس اقدام سے ملک میں زمینوں کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ نام نہاد شاعروں و ادیبوں سے بھی ادب پاک ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔