بھارتی فوج کی زیادتیوں سے پردہ اٹھانے پر مسلمان سیاستدان کیخلاف بغاوت کا مقدمہ

13

بھارتی فوج کے مظالم پر تنقید کرنے کے جرم میں معروف مسلمان سیاست دان اعظم خان پر بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بھارتی حکومت نے اپنے چہرے سے آزادی اظہار رائے کا نقاب اتار پھینکا۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے گزشتہ روز عید ملن پارٹی کی تقریب میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی سیکیورٹی فورسز کے مظالم پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکمران بیلٹ (ووٹ) کی بجائے بلٹ (گولی) کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

اعظم خان نے مقبوضہ کشمیر، پنجاب، اروناچل پردیش، آسام، بنگال اور جھاڑ کھنڈ میں بھارتی فوج کی جنسی زیادتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کے مظالم سے تنگ آکر خواتین نے بھی ہتھیار اٹھا کر بغاوت کا راستہ اختیار کرلیا ہے، جو اتنے غم و غصے کا شکار ہیں کہ حکومت کو سخت پیغام دینے کے لیے فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے نازک اعضا کاٹ کر پھینک دیتی ہیں، جس پر پورا ملک شرمندگی کا شکار ہے۔ اعظم خان نے کہا تھا کہ یہ تلخ حقیقت ہندوستان کی اصل زندگی کا پردہ فاش کرتی ہے۔

بھارتی پولیس نے اعظم خان کے رہائشی علاقے رام پور کے تھانے میں بغاوت اور دشمنی کو فروغ دینے کے الزام میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ انتہا پسند ہندو تنظیموں نے اعظم خان کی زبان کاٹنے پر انعام کا اعلان بھی کردیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں برکاپال کے علاقے میں ماؤ باغیوں نے حملہ کرکے بھارتی سیکیورٹی فورس کے 25 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد لاشوں کے نازک اعضا بھی کاٹ کر پھینک دیے تھے۔