انڈونیشیا میں ’چوری برائے تاوان‘ کے ماہر بندر

27

بین الاقوامی ہفت روزہ سائنسی جریدے ’نیوسائنٹسٹ‘ نے ایک دلچسپ خبر شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا کے بندر اتنے چالاک ہوچکے ہیں کہ وہ سیاحوں کی قیمتی اشیا چراتے ہیں اور انہیں کھانے کے بدلے فروخت کررہےہیں۔

چوری برائے تاوان کی ایک دلچسپ ویڈیو میں بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ انڈونیشیا کے  بندر بہت مہارت سے سیاحوں کے دھوپ کے چشمے، کیمرے اور موبائل فون اچک لیتے ہیں اور بھاگ کر دور کسی جگہ رک جاتےہیں۔ جب انہیں کھانے کی کوئی چیز دی جائے تب ہی وہ اس شے کو واپس کرتےہیں۔

انڈونیشیا کے شہر بالی میں الوواٹو مندر پر آنے والے سیاح ان بندروں سے بہت نالاں ہیں جو بالکل انسانوں کی طرح لوٹ مار کے ماہر ہیں۔ اس پر تحقیق کرنے والے بیلجیئم کی ماہر فینی بروٹ کورن نے بتایا کہ کام کےدوران بندروں نے ان کا ہیٹ، پین اور ریسرچ دستاویز تک چرانے کی کوشش کی۔

فینی بندروں کے برتاؤ کی ماہر ہیں اور انہوں نے بالی میں چار ماہ تک بندروں پر تحقیق کے بعد کہا کہ یہاں کے مکاک بندروں کا رویہ بہت برا ہے اور وہ باقاعدہ چور ہوچکے ہیں۔ پہلا واقعہ کئی برس قبل رونما ہوا اور اس کے بعد یہ رویہ ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوا ہے۔

ان کے تحقیقی مقالے کے مطابق بندر ایک دوسرے کو دیکھ کر یہ کام سیکھ رہے ہیں۔ وہ بہت تیزی سے کسی کی عینک چھین لیتے ہیں اور جب انہیں کھانا دیا جائے تو وہ اسے واپس کردیتےہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے خود انسانوں اور بندروں کی نفسیات سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق بندر ایک گروہ کی صورت میں لوٹنے اور تاوان کا کام کررہے ہیں۔