نائٹ شفٹ میں کام کئی خطرناک امراض کا شکاربنا سکتا ہے

10

اہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو لوگ مختلف اوقات خصوصاً رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں ان میں ڈی این اے مرمت کرنے والا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے جو آگے چل کر کئی امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

اگرچہ یہ ایک چھوٹا سا مطالعہ ہے لیکن اس میں دیکھا گیا ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے افراد کے جسموں سے ایک خاص کیمیکل 8-OH-dG کم خارج ہوتا ہے جو انسانی جسم میں ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر مسلسل یہی عمل جاری رہے تو اس سے موٹاپے، ذیابیطس اور امراضِ قلب کے علاوہ کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

امریکی شہر سیاٹل میں فریڈ ہچنسن کینسر سینٹر کی پروین بھٹی نے یہ تحقیق کی ہے اور ان کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے ان امراض کے خطرات کی ایک وجہ سامنے آئی ہے۔ ہمارے جسم میں قدرتی طور پر ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ جاری رہتی ہے لیکن اس کی مرمت کا قدرتی نظام بھی موجود رہتا ہے اور جیسے ہی ڈی این اے کی مرمت ہوتی ہے تو پیشاب میں 8-OH-dG کی زائد مقدار خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی کم مقدار کا خارج ہونا ظاہر کرتا ہے کہ شاید ڈی این اے کی کی درستگی مناسب نہیں ہو رہی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ڈی این اے متاثر ہونے سے کئی امراض لاحق ہو سکتے ہیں جن میں کینسر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے سے ایک جسمانی ہارمون میلاٹونن بھی کم ہوجاتا ہے، جو جسم کی اندرونی گھڑی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دیگر ماہرین کا اصرار ہے کہ  اس تحقیق کی یہ تشریح کرنا درست نہ ہو گا۔ سائنسدانوں کے مطابق اس تحقیق میں میلاٹونن کا کردار واضح نہیں ہو رہا۔ اسی طرح شفٹوں میں کام کرنے سے ڈی این اے متاثر ہونے کے بھی مزید ثبوت درکار ہوں گے، تاہم پروین بھٹی کی ٹیم نے انکشاف کیا کہ تحقیق کے مطابق جب ملازمین رات کی نیند لینے لگے تو ان ان میں 8-OH-dG کی شرح واپس بحال ہو جاتی ہے۔

اس تحقیق میں 223 افراد کا جائزہ لیا گیا ہے جو مختلف شفٹوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے دن کی نیند اور رات کی نیند لینے والوں کے جسم میں 8-OH-dG کا جائزہ لیا گیا۔